کچھ اشعار اسامہ کے

جو تم سے بچھڑے تو یادِ ماضی

جو تم سے بچھڑے تو یادِ ماضی تمھارا نعم البدل بنے گی
کہ اک اداسی اٹھے گی دل میں جو ہر اداسی کا حل بنے گی
میں شہ جہاں تو نہیں ہوں ممتاز لیکن اتنا بتا رہا ہوں
کہ تیری آمد سے میری اٹیا بھی ایک دلکش محل بنے گی
یہ زندگی جو تڑپ رہی ہے غموں کے کیچڑ میں آج میری
ذرا سا موسم بدل گیا تو مجھے یقیں ہے کنول بنے گی
مجھے خبر ہے مرے لہو سے گلی گلی میں دیے جلیں گے
میں اپنے دامن کی دھجیوں کو جو لفظ دوں گا غزل بنے گی
کہ ہم بھی مایوس ہیں اسامہ مگر دیے تو جلا رہے ہیں
امید ہے ان دیوں کا ایندھن ہماری اگلی نسل بنے گی
اسامہ گلزار

اِس قدر بے بسی کی کبھی انتہا نہ ہو

اِس قدر بے بسی کی کبھی انتہا نہ ہو
ینعی کسی کا یار کسی سے جدا نہ ہو
روزِ جزا کے خوف سے اُس کو ڈرائیے
جس نے فراقِ یار کا صدمہ سہلا نہ ہو
اک دردِ عشق ہے کہ نہیں چھوڑتا کبھی
ورنہ کوئی مرض ہے کہ جس کی دوا نہ ہو
رستہ ہو عشق کا تو مقدر کے کھیل میں
ممکن ہی کس طرح ہے کوئی کربلا نہ ہو
آتے ہیں مجھ سے ملنے عیادت کے واسطے
یا رب! مری دعا ہے کہ مجھ کو شفا نہ ہو
ہے عشق ایک ایسا معمّا جسے کبھی
سمجھا نہیں کوئی بھی جو خود مبتلا نہ ہو
ایسا نہ ہو کہ آئینہ کوسے تجھے ترا
اور خود سے سامنے کا تجھے حوصلہ نہ ہو
میں نے تمھارے واسطے سب سے بگاڑ لی
کیسا ستم ہو یار کہ تُو بھی میرا نہ ہو
اب تک جو ایک شکوہ ہے میری زبان پر
مَحوِ دُعا رہو کہ یہ حرفِ دعا نہ ہو
اُس شخص سے ڈرو! کہ خدا اس کے ساتھ ہے
کون و مکاں میں جس کا کوئی آسرا نہ ہو
میری خود اپنی ذات اسامہؔ نہ ہو وہاں
یعنی وہ ساتھ ہو تو کوئی دوسرا نہ ہو
اسامہ گلزار

مجھ کو ملا ہے آج وہ دل کے مکان میں

مجھ کو ملا ہے آج وہ دل کے مکان میں
میں جس کو ڈھونڈتا تھا کہیں آسمان میں
سردار ہوں کبھی تو سرِ دار ہوں کبھی
کتنے ہی پیچ و خم ہیں میری داستان میں
بزدل دِلوں کی فوج مقابل کھڑی ہے اور
نکلا ہوں صرف حوصلہ لے کر کمان میں
ہر قہقہے میں دردِ جگر کی ہے داستاں
اشکوں کا ایک دریا چھپا ہے چٹان میں
مشکل پڑی تو ساتھ کوئی ہم نوا نہیں
کل تک تو ہمسفر تھے بڑے کاروان میں
کہنے کو میرے سامنے بیٹھا ہے میرا یار
صدیوں کا فاصلہ ہے مگر درمیان میں
اک جستجو میں ہم نے گزاری تمام عمر
منزل ملی تو ٹوٹ کے بکھرے تکان میں
تھک کر جو آج ریل کی پٹری پہ جا گرا
کتنا ضعیف دل تھا کسی نوجوان میں
اہل نظر کی آنکھ پہ پردہ ہے خوف کا
چھالے پڑے ہیں اہل زُباں کی زُبان میں
وہ بے ادب جو قابلِ فہمِ سخن نہ تھے
اب ہیں سخن فروش ادب کی دکان میں
میرے جواب اتنے غلط بھی نہیں مگر
پرچہ غلط ملا ہے مجھے امتحان میں
میں شب جلا رہا تھا اسامہؔ تمھارے خط
دل بھی ملا ہے صبح مجھے راکھ دان میں
اسامہ گلزار

ہم کسی کام سے جب اس کے نگر جائیں گے

ہم کسی کام سے جب اس کے نگر جائیں گے
چند اک روز بہانے سے ٹھہر جائیں گے
ہم تجھے دیکھنے کو حدِ ادب سمجھیں گے
پھر ترے عشق میں ہر حد سے گزر جائیں گے
اتنی ہمت ہی نہیں پھر سے سنبھالیں خود کو
ہجر کی رات سے گزرے تو گزر جائیں گے
ہم نے دیکھا ہے اُنہیں اور کسی پر مرتے
وہ جو کہتے تھے تری یاد میں مر جائیں گے
تیر کر آگ کے دریا میں یہاں آئے تھے
تُو نے اب دل سے نکالا تو کدھر جائیں گے
دکھ تو یہ ہے کہ مجھے اپنوں نے خنجر مارا
زخم کا کیا ہے! یہ بھرتے ہیں، یہ بھر جائیں گے
ہم نے سوچا تھا کہ اُتریں گے اسامہؔ دل میں
کیا خبر تھی کہ نگاہوں سے اتر جائیں گے
اسامہ گلزار

مجھ کو ساحل پہ سکوں ہے نہ ہی صحراؤں میں

مجھ کو ساحل پہ سکوں ہے نہ ہی صحراؤں میں
درد لکھا ہے مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں
میرے اشکوں نے ترے نقش بھلائے یعنی
یہ گھڑا ڈوب گیا وقت کے دریاؤں میں
میں پیمبر ہوں نہ یوسف سا حسیں ہوں لیکن
میرے دشمن ہیں یہی میرے مسیحاؤں میں
مصر و کنعان سے بدتر ہے مرے دیس کا حال
یعنی سب شوق سے بکتے ہیں زلیخاؤں میں
پھر کہاں کھو گیا وہ شخص کسے کیا معلوم؟
چند اک روز جو ٹھہرا تھا ترے گاؤں میں
کیسے بھولوں میں اسامہؔ کہ تری یادوں نے
بیڑیاں ڈال کے رکھی ہیں مرے پاؤں میں
اسامہ گلزار

تُجھے اپنا بنانے میں لگا ہوں

تُجھے اپنا بنانے میں لگا ہوں
"میں کیوں مقتل سجانے میں لگا ہوں"
کہاں تُو اور کہاں میرا مقدر
کسے پاگل بنانے میں لگا ہوں
کوئی دکھ ہے یقیناً آج کل جو
میں اکثر مسکرانے میں لگا ہوں
وہی میرے غموں کا چارہ گر ہے
میں جس کے غم بھلانے میں لگا ہوں
وہ دو طرفہ محبت کر نہ پایا
میں یک طرفہ نبھانے میں لگا ہوں
میں اک دیوانہ مزدورِ محبت
اک انساں کو کمانے میں لگا ہوں
ٹھکانہ ہے کسی کا اس کے دل میں
میں اب جا کر ٹھکانے میں لگا ہوں
مِری آنکھیں اُسامہ کہہ چکی سب
میں اب کیا خط چھپانے میں لگا ہوں
اسامہ گلزار

تنہائیوں کے شور میں گوشہ نشیں ہوں میں

تنہائیوں کے شور میں گوشہ نشیں ہوں میں
پھر بھی یہ لگ رہا ہے کہ تیرے قریں ہوں میں
دیکھے ہوئے بھی اب تجھے مدت گزر گئی
یعنی کہ ایک وقت سے زندہ نہیں ہوں میں
پھر یوں ہوا کہ رب نے بنایا ترا وجود
سورج سمجھ رہا تھا کہ سب سے حسیں ہوں میں
تُو اک پری، فلک سے اُتارا گیا تجھے
میرا قصور یہ ہے کہ اہل زمین ہوں میں
کیا پوچھتے ہو مجھ سے اسامہؔ مرے مزاج
لفظوں میں کیا بتاؤں کہ کتنا غمگیں ہوں میں
اسامہ گلزار

تجھ سے بچھڑے ہیں تو آگے کی خبر کچھ بھی نہیں

تجھ سے بچھڑے ہیں تو آگے کی خبر کچھ بھی نہیں
تیری یادوں کے سوا رختِ سفر کچھ بھی نہیں
تُو نہیں ہے تو ہر لمحہ قیامت ہے مجھے
اور ترے ساتھ تو صدیوں کا سفر کچھ بھی نہیں
ایک ہم ہیں کہ جو برباد ہوئے پھرتے ہیں
ایک تُو ہے کہ جسے اس کی خبر کچھ بھی نہیں
اک برس بیت گیا عشق میں جلتے ہم کو
اور ان بارہ مہینوں کا ثمر کچھ بھی نہیں
آؤ چلتے ہیں کہیں اور کہ سمجھے جائیں
اس علاقے میں ہم ایسوں کی قدر کچھ بھی نہیں
اُن سے ملنا تو اُنہیں شعر سنانا میرے
وہ جو کہتے ہیں اسامہؔ میں ہنر کچھ بھی نہیں
اسامہ گلزار

ریزہ ریزہ ٹوٹئیے اور پھر نکھرتے جائیے

ریزہ ریزہ ٹوٹئیے اور پھر نکھرتے جائیے
مثلِ سرمہ چشمِ دلبر میں سنورتے جائیے
پہلے پاگل کیجیے میرے دلِ نادان کو
پھر دلِ بیتاب پر الزام دھرتے جائیے
چند لمحے ہیں حیاتِ جاوداں میرے لیے
دو گھڑی میری نگاہوں میں ٹھہرتے جائیے
آپ کو جانا مبارک! ہاں مگر میرے لیے
اک سہولت کیجیے دل سے اُترتے جائیے
زندگی تیرے غموں کا توڑ عزرائیل ہے
چند لمحے ڈوبیے اور پھر اُبھرتے جائیے
ایک مدت سے اسامہؔ اب یہی معمول ہے
ہر سحر اٹھیے ذرا ہر شام مرتے جائیے
اسامہ گلزار

کوئی تو اِس نگر میں میرے راز دار ہوں

کوئی تو اِس نگر میں میرے راز دار ہوں
گنتی میں چاہے کم ہوں مگر غم گسار ہوں
ہم کو نہیں پسند کوئی بھی ترے سوا
تجھ سے حسین چاہے یہاں بے شمار ہوں
پہلے یہ چشمِ ناز پلائی گئی ہمیں
پھر ہم سے یہ کہا کہ ذرا ہوشیار ہوں
برباد ہو کے عشق میں ہم لوگ آج بھی
بہتر ہیں تیرے جیسے اگرچہ ہزار ہوں
آؤ کہ پھر سے یاد اسامہؔ کریں اسے
دل چاہتا ہے پھر سے ذرا سوگوار ہوں
اسامہ گلزار

اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا

اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا
بس اسی خوف سے میں دل کو لگانے سے رہا
میرے چہرے کی اُداسی سے سمجھ جاؤ مجھے
دل میں جو زخم ہیں وہ تو میں دکھانے سے رہا
صاحبِ تخت ملے تجھ کو تو کچھ بات بنے
میرے جیسا تو ترے ناز اٹھانے سے رہا
چند پھولوں کو ترے واسطے لایا ہوں کہ میں
چاند تاروں کو یہاں توڑ کے لانے سے رہا
پھر سبھی راز اسامہؔ کے عیاں ہونے لگے
جب ترا نام سنا اشک چھپانے سے رہا
اسامہ گلزار

یوں سنبھالوں میں کہ ماتھے پہ شکن آ نہ سکے

یوں سنبھالوں میں کہ ماتھے پہ شکن آ نہ سکے
تیرے خوابوں میں ذرا سی بھی تھکن آ نہ سکے
میں کہ دنیا کے ہر اک دکھ سے بچاؤں تجھ کو
یعنی صیاد کوئی سمتِ چمن آ نہ سکے
چاہتا تھا کہ ترے نام پہ اک نظم کہوں
چند لفظوں میں ترے روح و بدن آ نہ سکے
تیرے لہجے نے ہمیں اردو میں استاد کیا
کیسے ممکن ہے ہمیں فہمِ سخن آ نہ سکے
ایسی گہرائی کسی غم کے سمندر میں کہاں!
جس میں امید کے سورج کی کرن آ نہ سکے
اب اسامہؔ مری حالت ہے پرندوں جیسی
وہ پرندے جو کبھی اپنے وطن آ نہ سکے
اسامہ گلزار

اک دیپ دوسرے کو جلائے تو بات ہے

اک دیپ دوسرے کو جلائے تو بات ہے
اپنے گلے سے مجھ کو لگائے تو بات ہے
یہ مے کدے تو اور بھی بستی میں ہیں بہت
آنکھوں سے جام مجھ کو پلائے تو بات ہے
لمحوں میں مجھ کو چھوڑ کے گرچہ چلا گیا
صدیوں میں مجھ کو دل سے بھلائے تو بات ہے
سینے سے میرے دل کو ہے اس نے چرا لیا
اب دل سے دردِ دل کو چرائے تو بات ہے
جس کے لیے اسامہؔ ہے شاعر بنا ہوا
غزلیں اسے بھی جا کے سنائے تو بات ہے
اسامہ گلزار

ایک غلطی بہت بڑی کر لی

ایک غلطی بہت بڑی کر لی
اک مسافر سے دل لگی کر لی
اپنے یاروں سے توڑ کر رشتے
ایک دشمن سے دوستی کر لی
چند لمحے سکون کی خاطر
"ہم نے برباد زندگی کر لی"
قہقہوں نے تمھارے جاتے ہی
غم کے دریا میں خودکشی کر لی
غمِ سخن بن کے آنکھ سے ٹپکا
ہم نے اشکوں سے شاعری کر لی
حد کے بڑھ کے ذہین تھا لیکن
پھر اسامہؔ نے عاشقی کر لی
اسامہ گلزار

کبھی تو مرا یوں تو تھا بھی نہیں

کبھی تو مرا یوں تو تھا بھی نہیں
مگر مجھ سے اتنا جدا بھی نہیں
مری عقل کہتی ہے اب بھول جا
مگر دل اسے بھولتا بھی نہیں
ترے واسطے درد لاکھوں سہے
مگر تجھ سے کوئی گلہ بھی نہیں
ملی عمر بھر ہم کو اس کی سزا
کہ جو جرم ہم نے کیا بھی نہیں
سبھی پر عیاں ہے یہ دھوکہ مگر
محبت سے کوئی بچا بھی نہیں
اسامہؔ وہ اپنی سنا کر چلے
مرا حالِ دل تو سنا بھی نہیں
اسامہ گلزار

ہمارے میں آج اک عجب فاصلہ تھا

ہمارے میں آج اک عجب فاصلہ تھا
مرے سامنے ہو کے مجھ سے جدا تھا
بہت درد دے کے وہ رخصت ہوا ہے
کبھی جو مرے دردِ دل کی دوا تھا
ہزاروں غموں سے بھرا تھا مرا دل
مگر میرے ہونٹوں پہ اک قہقہہ تھا
اگر حادثہ تھا یوں ملنا ہمارا
تو واللہ سب سے حسیں حادثہ تھا
مرے شعر تیرے غموں نے نکھارے
وگرنہ میں بھی شخص اک عام سا تھا
اسامہؔ! وہ پھولوں سے ہارا ہے، جس کو
پہاڑوں سے لڑنا کا بھی حوصلہ تھا
اسامہ گلزار

اُسے مجھ پہ اب وہ بھروسہ کہاں ہے

اُسے مجھ پہ اب وہ بھروسہ کہاں ہے
کہ ہر بات پر جھوٹ کا ہی گماں ہے
سنا ہے کہ وہ چھوڑ کر جا رہا ہے
جبھی آنکھ سے ایک دریا رواں ہے
مجھے میرے دو چار ساتھی بہت ہیں
اگرچہ ترے ساتھ سارا جہاں ہے
جو تو بھی نہ سمجھے یہ اشعار میرے
تو پھر میری سب شاعری رائیگاں ہے
میں بدلا ہوں اتنا کہ اب مجھ سے اکثر
سبھی پوچھتے ہیں، اسامہؔ کہاں ہے؟
اسامہ گلزار

تمھارے چہرے کی دلکشی کو ہم انتہائے جمال سمجھیں

تمھارے چہرے کی دلکشی کو ہم انتہائے جمال سمجھیں
کہ ہم تو اپنی یہ شاعری بھی تری نظر کا کمال سمجھیں
کمال ہو جو ہمارے دشمن ہمارے مرنے پہ نوحے لکھیں
کمال ہو جو ہمارے قاتل، ہمارا مرنا ملال سمجھیں
وفا کے رستے پہ چلتے چلتے لٹا کے رکھ دوں وجود اپنا
عجب نہیں جو رقیب میرے مجھے وفا کی مثال سمجھیں
کسے خبر ہے کہ ایک طوفان بن کے آئے سکوت میرا
جسے یہ کم ظرف ان دنوں میں مرا مکمل زوال سمجھیں
ہم ان دنوں کو بھی مسکراہٹ کے ساتھ یوں ہی گزار لیں گے
کہ جس فضا میں زمانے والے تو سانس لینا محال سمجھیں
عجیب دکھ ہے کہ اب بتانا پڑے گا ان کو اداس کیوں ہوں
کبھی خاموشی کا راز جانیں ، ان آنسوؤں کا سوال سمجھیں
چراغِ حسرت جلا کے رکھنا کہ عین ممکن ہے یہ ہوائیں
کبھی تری خواہشوں کو دیکھیں تو ان خزانوں کا حال سمجھیں
کبھی تو ہو گا کہ ہم سے مجنوں نہ بستیوں سے نکالے جائیں
کبھی تو ہو گا کہ اہل بستی محبتوں کا کمال سمجھیں
اگر اسامہؔ ہمارے اپنوں کو ان کے اپنوں سے وقت ہو تو
کبھی ہماری بھی بات سن لیں ، کبھی ہمارا خیال سمجھیں
اسامہ گلزار

دعا

مرے مالک گناہوں سے مرا دامن جُدا کر دے
تُو اپنی رحمتوں سے مجھ کو بھی حق آشنا کر دے
میں احکامِ الہیٰ پر گزاروں زندگی اپنی
مری خواہش ہے مجھ کو بھی غلامِ مصطفیٰ کر دے
خدا کا خُوف ہو اور ساتھ میں امیدِ رحمت بھی
مرے نادان دل کو بھی یہ دو چیزیں عطا کر دے
بُری صحبت کے شَر سے تُو سدا میری حفاظت کر
پھر اپنے نیک بندوں کا مجھے بھی ہم نُوا کر دے
اسامہ گلزار

شہدائے پشاور کے نام

کتنے رنج و الم سے گزارے گئے
جن کے سینے میں بارود اتارے گئے
نام جن کے فلک سے پکارے گئے
علم کے راستوں میں جو مارے گئے
اپنے والد کے واحد سہارے تھے وہ
اور ممتا کی آنکھوں کے تارے تھے وہ
تم کو معلوم ہے کتنے پیارے تھے وہ
علم کے راستوں میں جو مارے گئے
پھول معصوم تھے اور جاذبِ نظر
ان سبھی سختیوں سے ابھی بے خبر
تھیں مگر ان کی عمریں بڑی مختصر
علم کے راستوں میں جو مارے گئے
مٹ گیا آج سب دشمنوں کا بھرم
رک گئیں گولیاں ، کب رُکا ہے قلم
اور منزل ہے پھولوں کی باغِ اِرم
علم کے راستوں میں جو مارے گئے
اسامہ گلزار

"میں" اور "تُو"

ایک ہی خاک سے اٹھے ہوئے دو جسم جنھیں
ایک دن ایک ہی مٹی میں سما جانا تھا
ایک ہی راہِ اذیت کے مسافر تھے جنھیں
اپنا دن رات محبت میں لٹا جانا تھا
اس کی بستی سے بہت دور بسیرا تھا مرا
دونوں شہروں میں کئی دن کا سفر پڑتا تھا
اس کی بستی تھی وہاں سندھ کی سرحد کے قریب
وسطی پنجاب میں جا میرا نگر پڑتا تھا
پر کہاں فاصلے تقدیر مٹا پائے ہیں
کب کوئی وقت کی تلوار سے بچ پایا ہے
کیسے ممکن تھا کہ ٹل جاتا اذیت کا سفر
کیا کوئی عشق کی یلغار سے بچ پایا ہے
یہ ملاقات بہت پہلے سے لکھ رکھی تھی
اس کو لایا گیا ہجرت کا بہانہ کر کے
جذبہِ عشق اٹھایا گیا سینے میں مرے
مجھ کو پاگل کیا آنکھوں کا دوانہ کر کے
رشتہ ہم دونوں کا آغاز میں ایسا تو نہ تھا
گرچہ اک رسمی ملاقات بھی ہو جاتی تھی
چلتے پھرتے میں اسے دیکھ لیا کرتا تھا
آنکھوں آنکھوں میں کبھی بات بھی ہو جاتی تھی
اس کی آنکھوں میں ہمیشہ سے چمک تھی لیکن
وہ چمک میری ضرورت تو نہیں ہوتی تھی
اس تبسم میں مرے غم کا مداوا تو نہ تھا
وہ مجھے باعثِ راحت تو نہیں ہوتی تھی
ہاں مگر راہِ اذیت تو مقدر تھی مرا
بے خودی میں پھر اسی راہ پہ چلنا تھا مجھے
ہاتھ میں لکھے مقدر کو بدلتا کیسے
آتشِ عشق میں اک روز تو جلنا تھا مجھے
عطرِ جذبات میں گوندھی ہوئی مٹی تھی میری
اک نہ اک روز تو اس آنکھ کو نم ہونا تھا
ایک ہی خاک سے تخلیق ہوئے تھے دونوں
"میں" و "تُو" بھول کے اک روز تو "ہم" ہونا تھا
اے مرے یار ترا عشق اذیت ہی سہی
مجھ کو اپنا کے مرا درد مسلسل کر دو!
میری مٹی میں ذرا خاک ملاؤ اپنی
"میں کہ صدیوں سے ادھورا ہوں مکمل کر دو!"
اسامہ گلزار

سپردگی

اب بھلا تجھ سے کیا ہی میں شکوہ کروں
روحِ من تجھ سے کوئی شکایت نہیں
تجھ سے کوئی نہیں میرے دل کا گلہ
اور نالے ہماری روایت نہیں
جسم تیرا ہے یہ، اور جاں بھی تری
اس میں سامان کوئی ہمارا نہیں
ہم ہی نادان تھے کہ جو کہتے رہے
بن تمھارے ہمارا گزارہ نہیں
میں نے برسوں تلک ہے سنبھالا مگر
اب یہ تیری امانت حوالے ترے
اب تری جان کی میں کفالت کروں؟
سب ہی انداز ہیں یہ نرالے ترے
تھک گیا ہوں میں ان کو سنبھالے ہوئے
ہونٹ، رخسار، آنکھیں، یہ دل اور جبیں
تو اب اپنے اسامہؔ کو خود دیکھ لے
مجھ کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں
تیری قدموں میں آنکھوں کا جوڑا رکھا
تیرے دیدار سے جو چمکنے لگے
اور دیکھے جو تیری ذرا بے دلی
بے بسی سے یہ پھر خون رسنے لگے
ہاتھ آگے بڑھا اور دل تھام لے
جس کو تیرے سوا چین آتا نہیں
اب یہ ہونٹ اور چہرہ حوالے ترے
آج کل جو ذرا مسکراتا نہیں!
سارے جذبے تمھیں سے جڑے ہیں مگر
اب یہ مرضی ہے تیری تو جو بھی کرے
میرا اب اس سے کوئی تعلق نہیں
اب یہ تیرا اسامہؔ حوالے ترے
اسامہ گلزار

محبت کے سوا

دکھ بہت ہوں گے زمانے میں محبت کے سوا
فیض کہتے تھے تو سچ بات ہی کہتے ہوں گے
لوگ ہوں گے اسی دنیا میں کئی ایسے بھی
بن محبت کے جو دکھ درد کو سہتے ہوں گے
میں تو اک عام سا شاعر ہوں جسے دنیا میں
رنج و راحت کے کسی طور سے انکار نہیں
ان کی ہر بات میں کچھ بھید یقیناً ہوگا
فیض و غالب کی کسی بات سے تکرار نہیں
جی تو کرتا ہے کہ ہر شخص کا نوحہ لکھوں
قبل مرنے کے بھی جو شام و سحر مرتا ہے
جس کے سینے میں کئی راز بھی پنہاں ہیں ابھی
وہ جو روتا ہے تو آنکھوں سے لہو گرتا ہے
لیکن افسوس مرا دل بھی محبت کے سوا
کوئی منطق یا کوئی بات سمجھتا ہی نہیں
اس کو دنیا کے کسی غم سے بھی انکار نہیں
پر یہ دنیا کے خرافات سمجھتا ہی نہیں
میں بھی دنیا کے ہر اک درد کا ماتم کرتا
گر نہ لگتی مری مٹی کو محبت کی ہوا
مجھ سے تو ایک محبت بھی سنبھالی نہ گئی
"اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا"
اسامہ گلزار

یاد کرو

یاد کرو جب تنہائی میں ہاتھ ہمارا تھاما تھا
یاد کرو جب اپنے دل میں الفت کا ہنگامہ تھا
یاد کرو جب میں نے اپنے دل کی بات بتائی تھی
یاد کرو جب میں نے اپنی پہلی نظم سنائی تھی
یاد کرو جب تم سے ملنے شہر تمھارے آیا تھا
یاد کرو جب دروازے پر ہلکا سا شرمایا تھا
یاد کرو جب آنکھ تمھاری مے خانہ ہو جاتی تھی
یاد کرو جب تم بھی اکثر دیوانہ ہو جاتی تھی
یاد کرو جب ریل مرے سینے پر چلنے والی تھی
یاد کرو جب ہچکی تم نے مشکل سے سنبھالی تھی
یاد کرو جب جاتے جاتے آخری ہاتھ ہلایا تھا
یاد کرو جب ہم نے اپنا پہلا اشک بہایا تھا
یاد کرو جب چوری چوری فون پہ باتیں کرتے تھے
یاد کرو جب رسوائی کے ڈر سے دونوں ڈرتے تھے
یاد کرو جب ہم دونوں نے اپنا عشق رچایا تھا
یاد کرو جب تم نے میرے دل کا چین چرایا تھا
اسامہ گلزار

دیوانہ

یہ تمھاری راہوں کا دل جلا
نہ سمجھتا کچھ ہے نہ سوچتا
کبھی مسکرائے گا درد میں
کبھی راحتوں میں بھی رو لیا
یہ بڑا عجیب چراغ ہے
نہ جلا ہوا نہ بجھا ہوا
اسے ایک لمحہ سکوں نہیں
یہ ہے مد و جزر کے سلسلہ
جو تمھاری باہوں میں آ گرا
اسے رات دن کی خبر نہیں
اسے موسموں کا اثر نہیں
اسے غم ہے اپنے عزیز کا
اسے اور کوئی بھی ڈر نہیں
اسے موت سے نہ ڈرا کہ اب
اسے زندگی کی فکر نہیں
اسے زندگی کی فکر ہو کیا؟
کہ یہ اپنے یار پہ مر مٹا
جو تمھاری باہوں میں آ گرا
جو تری نظر کا خمار ہو
نہ کوئی بھی راہِ فرار ہو
تری قربتیں جو ملیں اسے
تو خزاں میں فصلِ بہار ہو
یہ دھڑک رہا ہے جو دل مرا
تری زندگی پہ نثار ہو
کسی شام آ کے سمیٹ لے
ابھی زخمِ دل ہے ہرا ہرا
جو تمھاری باہوں میں آ گرا
نہ طریر ہوں نہ شہیر ہے
نہ ہی قسمتوں پہ قدیر ہے
اسے اور کوئی ہنر نہیں
یہ محبتوں کا خمیر ہے
یہ تمھارے قدموں کی خاک ہے
یہ تمھارے در کا فقیر ہے
اسے رنج و غم سے نجات دے
اسے آگے بڑھ کے گلے لگا
جو تمھاری باہوں میں آ گرا
اسامہ گلزار

بے خبر

اک وقت ہوا بتلاتے ہوئے ہم جان نچھاور کرتے ہیں
دل کھول کے بھی دکھلایا ہے ہم ایک تمہی پر مرتے ہیں
اک تیری خاطر ہم ہیں جو طوفانوں سے بھی لڑتے ہیں
اور ہم ہی ہیں جو تیری آنکھ کے اک آنسو سے ڈرتے ہیں
تم تک نہ ابھی کیوں پہنچی ہیں جو آہیں دن بھر بھرتے ہیں
تم جان کی قیمت کب سمجھو اور جان کا کھونا کیا جانو
تم عشق کے غم سے کیا واقف اور دل کا رونا کیا جانو
جب نام تمھارا ساتھ جڑا ہم ایسے بھی مغرور ہوئے
اک تیرے نام کی نسبت سے ہم دنیا میں مشہور ہوئے
تو نے جو پرایا بولا تو پاؤں میں گرے رنجور ہوئے
کچھ ہونٹ ہلے ، دل رک سا گیا اور رونے پر مجبور ہوئے
اک بارذرا دیکھو تو سہی وہ چہرے جو بے نور ہوئے
مت چاک گریباں کب دیکھو دامن کو بھگونا کیا جانو
مت عشق کے غم سے کیا واقف اور دل کا رونا کیا جانو
کچھ درد سنانے ہیں مجھ کو ، سنتے ہیں وہ سب کی سنتا ہے
کیوں دیر ہوئی ترے ملنے میں ، کاتب سے گلہ تو بنتا ہے
ہم خون کے آنسو روتے ہیں دل ہجر کے لمحے گنتا ہے
ہم تھر تھر کانپتے رہتے ہیں اور جسم مسلسل جلتا ہے
یہ کیسا درد ہے سینے میں کس بات کی ہم کو چنتا ہے
تم درد ہمارا کیا سمجھو تم دیر سے سونا کیا جانو
تم عشق کے غم سے کیا واقف اور دل کا رونا کیا جانو
اسامہ گلزار

میت کی فریاد

بہت دور دنیا سے پردہ نشیں ہوں
میں مدفون مٹی کے نیچے کہیں ہوں
میں دنیا کے رنگوں میں کھویا ہوا تھا
مگر اب اندھیرے مکاں کا مکیں ہوں
سمجھ میں نہ آئی جہاں کی حقیقت
مرا وہم تھا میں بہت ہی ذہین ہوں
زمین سے ہیں نکلے مرے سب خزانے
مگر تب کہ جب میں ہی زیرِ زمین ہوں
جبیں کر رہی ہے یہ شکوہ خدا سے
میں سجدوں کی ترسی ہوئی اک جبیں ہوں
اسامہ گلزار

ہم سفر

کوئی تو دیکھے مِری آنکھ میں اترے غم کو
کوئی ہمدرد مِرے درد کو بانٹے آ کر
ہم سفر کوئی مِری ساتھ چلے چار قدم
پاؤں سے کوئی نکالے مِری کانٹے آ کر
اسامہ گلزار

عید

لوگ تہوار یہ خوشیوں سے منائیں گے مگر
میری قسمت تو بہاری نہیں ہونے والی
اب کے پھر عید پہ آیا نہیں چندا میرا
اب کے پھر عید ہماری نہیں ہونے والی
اسامہ گلزار

یاد

کوئی کیسے چھوڑ کے جائے گا
جب ساتھ کوئی آباد نہیں
وہاں کون کسی کو بھولے گا
جہاں کوئی کسی کو یاد نہیں
اسامہ گلزار

مہندی

ابھی تک مرے ساتھ یادیں ہیں اس کی
ابھی تک اسے میں نے کھویا نہیں ہے
ابھی اس کے ہاتھوں پہ مہندی لگی ہے
ابھی اس نے ہاتھوں کو دھویا نہیں ہے
اسامہ گلزار

آزادیِ رائے

حاکمِ شہر نے اعلان کیا ہے، سن لو!
ہر کھرا شخص یہاں ٹوک دیا جائے گا
جھوٹ لّکھو گے تو آزاد رہو گے لیکن
سچ کے لکھنے پہ قلم روک دیا جائے گا
اسامہ گلزار